پگڑی کی شرعی حیثیت F20-24-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, October 30, 2020

پگڑی کی شرعی حیثیت F20-24-03

ھفت روزہ اھل حدیث, ہفت روزہ اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, احکام ومسائل,پگڑی کی شرعی حیثیت,
 

پگڑی کی شرعی حیثیت

O ایک شخص کسی سے ایک دکان کرایہ پر لیتا ہے‘ مالک دکان کرایہ دار سے ماہانہ کرایہ کے علاوہ پگڑی کے نام سے کچھ رقم بھی وصول کرتا ہے‘ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا جواب دیں۔

یہ فتویٰ پڑھیں:                   میرج ہال کرایہ پر دینا

P کسی دوسرے کو مکان یا دکان کرایہ پر دینا ایک مالی معاملہ ہے‘ مالی معاملات کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال باطل اور ناجائز ذرائع سے مت کھاؤ ہاں اگر تجارت باہمی رضا مندی سے ہو تو ٹھیک ہے۔‘‘ (النساء: ۲۹)

ہمارے رجحان کے مطابق ایسا ہوتا ہے کہ کچھ کرایہ دار مکان یا دکان کو نقصان پہنچاتے ہیں یا بجلی وغیرہ کے بل ادا نہیں کرتے تو مالک پیش بندی کے طور پر کچھ رقم کرایہ کے علاوہ ایڈوانس لے لیتا ہے تا کہ مکان یا دکان کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ہو سکے اور اس رقم سے بل وغیرہ کی ادائیگی ہو سکے۔ چونکہ یہ رقم زر ضمانت کے طور پر ہوتی ہے اس لیے اگر کرایہ دس ہزار ہے تو دو ماہ کا کرایہ بیس ہزار زرضمانت کے طور پر کرایہ دار سے وصول کر لے اور جب کرایہ دار مکان یا دکان چھوڑے تو اپنے نقصان کی تلافی اور بلوں کی ادائیگی سے جو رقم باقی بچے وہ اسے واپس کر دے یہ تو جائز صورت ہے۔ لیکن اگر بھاری بھرکم رقم بطور پگڑی وصول کرتا ہے تو اس کے جائز ہونے کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ پیشگی وصول کی ہوئی رقم ماہ بماہ کرایہ میں منہا کرتا رہے۔

لیکن اس صورت میں کہ اگر پیشگی وصول کی ہوئی کرایہ کا حصہ نہیں بنتی تو مالک کا اس طرح بھاری پیشگی رقم وصول کرنا ناجائز ہے۔ کیونکہ مالک مکان‘ یا مالک دکان اس رقم کے بدلے کرایہ دار کو کچھ نہیں دیتا۔ یہ ناجائز طور پر دوسرے کا مال کھانے کی ایک بدترین صورت ہے۔

اسی طرح کچھ کرایہ دار اس دکان یا مکان کو آگے کرایہ پر دے دیتے ہیں اور اس نئے کرایہ دار سے پہلا کرایہ دار پگڑی کے نام پر رقم وصول کر لیتا ہے۔ ایسا کرنا بھی جائز نہیں۔ کیونکہ ایسا کرنا مالک کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں تصرف کرنا ہے جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔ اگر مالک راضی بھی ہو جائے تب بھی ناجائز ہے کیونکہ یہ مال بلامعاوضہ حاصل کیا گیا ہے۔ آخر یہ کرایہ دار نئے کرایہ دار کو مزید رقم کے بدلے میں کیا چیز دیتا ہے؟

یہ فتویٰ پڑھیں:                   گروی زمین سے فائدہ اٹھانا

ایسے کاروبار کو تجارت بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ تجارت میں معاوضہ ضروری ہوتا ہے۔ اگر کرایہ دار کو اس کی ضرورت نہیں تو اسے چاہیے کہ دکان یا مکان خالی کر کے مالک کے حوالے کر دے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

Pages